Wed. Jun 19th, 2024

اسلام آباد:
شہباز شریف کی موجودہ حکومت کو معاشی مشکلات اور مالیاتی خسارے کا سامنا ہے۔ حکومت روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے اور آئندہ بجٹ 2022-2023 میں ٹیکس بڑھانے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بدھ کو کہا کہ رواں ماہ پیش کیے جانے والے آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ایک بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی حکومت کی طرف سے دی گئی تمام سبسڈیز کو واپس لینا چاہتا ہے۔

ان اقدامات سے عوام پر 51 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، کیونکہ پٹرول کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر کے زبردست اضافے کے بعد مہنگائی پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔بجلی کی قیمت میں 3 روپے 99 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی بجلی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

دوسری جانب مخلوط حکومت پہلے ہی گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں پر سبسڈی کم کر چکی ہے۔ گھی کی قیمت میں 208 روپے فی کلو اضافہ، مختلف کمپنیوں کے گھی کی قیمت 555 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ کوکنگ آئل کی قیمت میں 215 روپے کا اضافہ کرکے 605 روپے فی لیٹر کردیا گیا ہے۔