Wed. Jun 19th, 2024

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نام نکالنے کا دفاع کرتے ہوئے جمعرات کو سپریم کورٹ آف پاکستان کو بتایا کہ ہر شہری کو آزادانہ طور پر بیرونی ممالک کا دورہ کرنے کا آئینی حق ہے۔

حکومت کی جانب سے استغاثہ کے معاملات میں مداخلت کے ازخود نوٹس کیس میں جمعرات کو عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے 54 صفحات پر مشتمل جواب میں حکومت نے موقف اختیار کیا کہ نیب میں زیر التوا مقدمات کی وجہ سے لوگوں کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے جا سکتے۔

بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ملک ریاض حسین، احد چیمہ، وزیراعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز، احسن اقبال، شرجیل میمن، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری کے نام بھی نکالے گئے ہیں۔ ای سی ایل۔

جواب میں کہا گیا کہ نام ای سی ایل پر ڈالنے سے پہلے حکومت نے افراد پر لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا اور ان کے بنیادی حقوق کا بھی جائزہ لیا جن کی آئین نے ضمانت دی ہے۔

متعلقہ کہانیاں
ای سی ایل رولز میں فی الحال تبدیلیاں نہیں کر رہے، چیف جسٹس
سندھ ہائی کورٹ نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے فریال تالپور کا نام ای سی ایل سے نکال دیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ایگزٹ کنٹرول لسٹ (2010) کے رول 2 میں ترمیم کی، انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس ای سی ایل رولز میں ترمیم کے صوابدیدی اختیارات ہیں۔

کابینہ کے ارکان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کے نام نکالنے کی بنیادی وجہ انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کے قابل بنانا تھا۔ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے نیب سے مشورہ کرنا لازمی نہیں، کسی قانون میں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے میں پچھلی حکومت کی جانب سے تقرریاں اور تبادلے کیے گئے جو تاحال برقرار ہیں، ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن نے انکشاف کیا کہ ایجنسی کے کام میں پچھلی حکومت نے مداخلت کی۔ اسی طرح اس وقت وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف کے خلاف 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس زیر تفتیش ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں سلمان شہباز، ملک مقصود اور طاہر نقوی مفرور ہیں۔ رپورٹ میں جہانگیر ترین کے خلاف شوگر سکینڈل میں زیر التوا مقدمات کی تفصیلات بھی دی گئیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بنچ آج (جمعہ) کو کیس کی دوبارہ سماعت کرے گا۔